السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يخطب الرجل على خطبة أخيه إذا رضيت به المخطوبة أو رضي به أبو البكر حتى يأذن أو يترك باب: اس بیان میں کہ جب وہ عورت جسے پیغامِ نکاح دیا گیا ہو، یا کنواری لڑکی کا باپ پہلے شخص سے راضی ہو چکے ہوں تو کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے جب تک کہ پہلا شخص اجازت نہ دے دے یا وہ اسے چھوڑ نہ دے۔
حدیث نمبر: 14036
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ⦗٢٩٣⦘ أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ، فَلَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ منبر پر فرما رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن مومن کا بھائی ہے، تو کسی مومن کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے، یہاں تک کہ وہ چھوڑ دے اور نہ ہی پیغامِ نکاح پر پیغامِ نکاح دے، یہاں تک کہ وہ چھوڑ دے۔“