السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يخطب الرجل على خطبة أخيه إذا رضيت به المخطوبة أو رضي به أبو البكر حتى يأذن أو يترك باب: اس بیان میں کہ جب وہ عورت جسے پیغامِ نکاح دیا گیا ہو، یا کنواری لڑکی کا باپ پہلے شخص سے راضی ہو چکے ہوں تو کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے جب تک کہ پہلا شخص اجازت نہ دے دے یا وہ اسے چھوڑ نہ دے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَخْطُبَنَّ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلَا بَيْنَهَا وَخَالَتِهَا، وَلَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَلَا تَأْذَنُ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَمَا تَصَدَّقَتْ بِهِ مِمَّا يَكْسِبُ عَلَيْهَا فَإِنَّ لَهُ نِصْفَ أَجْرِهِ، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ إِنَاءَ صَاحِبَتِهَا، وَلْتَنْكِحْ فَإِنَّ لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ إِلَى قَوْلِهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم گمان سے بچو؛ کیونکہ گمان جھوٹی بات ہے اور ٹوہ نہ لگاؤ، جاسوسی نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور قطع تعلقی نہ کرو۔ اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ، تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے منگنی کے پیغام پر پیغام نہ دے یا تو وہ نکاح کرے یا چھوڑ دے اور نہ ہی بھتیجی اور پھوپھی کو جمع کیا جائے، نہ بھانجی اور خالہ کو ایک نکاح میں جمع کیا جائے اور کوئی عورت اپنے خاوند کے بغیر گھر میں (کسی کو) آنے کی اجازت نہ دے۔ اگر وہ اپنے خاوند کی کمائی سے صدقہ کرتی ہے تو اس کو نصف اجر ہے اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا سوال نہ کرے تاکہ نکاح کر کے اس کے حصے کا رزق حاصل کر سکے، لیکن جو اس کے مقدر میں ہے وہی ملے گا۔“
(ب) یحییٰ بن بکیر نے اس قول «حَتّٰى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ» ”یہاں تک کہ وہ نکاح کرے یا چھوڑ دے“ تک بیان کیا ہے۔