السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يخطب الرجل على خطبة أخيه إذا رضيت به المخطوبة أو رضي به أبو البكر حتى يأذن أو يترك باب: اس بیان میں کہ جب وہ عورت جسے پیغامِ نکاح دیا گیا ہو، یا کنواری لڑکی کا باپ پہلے شخص سے راضی ہو چکے ہوں تو کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے جب تک کہ پہلا شخص اجازت نہ دے دے یا وہ اسے چھوڑ نہ دے۔
حدیث نمبر: 14034
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَرُدَّ أَوْ يَأْذَنَ لَهُ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے منع فرمایا: ”کوئی اپنے بھائی کی منگنی کے پیغام پر پیغام نہ دے، یہاں تک کہ وہ چھوڑ دے یا اجازت دے دے۔“