السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يخطب الرجل على خطبة أخيه إذا رضيت به المخطوبة أو رضي به أبو البكر حتى يأذن أو يترك باب: اس بیان میں کہ جب وہ عورت جسے پیغامِ نکاح دیا گیا ہو، یا کنواری لڑکی کا باپ پہلے شخص سے راضی ہو چکے ہوں تو کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے جب تک کہ پہلا شخص اجازت نہ دے دے یا وہ اسے چھوڑ نہ دے۔
حدیث نمبر: 14033
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأُمَوِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَبِيعَنَّ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ "، لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، وَغَيْرُهُ عَنْ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ ہی منگنی کے پیغام پر پیغام دے الا یہ کہ وہ اجازت دے۔“ اور یحییٰ کی روایت میں ہے کہ وہ اس کو اجازت دے۔