السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يخطب الرجل على خطبة أخيه إذا رضيت به المخطوبة أو رضي به أبو البكر حتى يأذن أو يترك باب: اس بیان میں کہ جب وہ عورت جسے پیغامِ نکاح دیا گیا ہو، یا کنواری لڑکی کا باپ پہلے شخص سے راضی ہو چکے ہوں تو کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے جب تک کہ پہلا شخص اجازت نہ دے دے یا وہ اسے چھوڑ نہ دے۔
حدیث نمبر: 14032
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مَكِّيٌّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ ⦗٢٩٢⦘ بَعْضٍ، وَلَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ قَبْلَهُ، أَوْ يَأْذَنَ لَهُ الْخَاطِبُ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا: ”تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ ہی کسی کے منگنی کے پیغام پر پیغام دے، یہاں تک کہ پیغام دینے والا اس سے پہلے چھوڑ دے یا اس کو اجازت دے دے۔“