السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب نكاح حرائر أهل الكتاب، وإمائهم وإماء المسلمين -- باب: ما جاء في تحريم حرائر أهل الشرك دون أهل الكتاب، وتحريم المؤمنات على الكفار باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں اہلِ کتاب کی آزاد عورتوں، ان کی لونڈیوں اور مسلمانوں کی لونڈیوں سے نکاح کا بیان ہے۔ -- باب: اہلِ کتاب کے علاوہ دیگر مشرکین کی آزاد عورتوں کی حرمت کا بیان، اور کافروں پر مومن عورتوں کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13987
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ ⦗٢٨١⦘ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: " لَيْسَ نَصَارَى الْعَرَبِ بِأَهْلِ الْكِتَابِ، إِنَّمَا أَهْلُ الْكِتَابِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَالَّذِينَ جَاءَتْهُمُ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ، فَأَمَّا مَنْ دَخَلَ فِيهِمْ مِنَ النَّاسِ فَلَيْسُوا مِنْهُمْ "، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي نَصَارَى الْعَرَبِ بِمَعْنَى هَذَا وَأَنَّهُ لَا تُؤْكَلُ ذَبَائِحُهُمْ وَذَلِكَ يَرِدُ فِي مَوْضِعِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عرب کے نصاریٰ اہل کتاب نہیں ہیں، اہل کتاب تو بنو اسرائیل ہیں جن کے پاس تورات و انجیل آئی، لیکن جو لوگ ان میں شامل ہو گئے وہ ان میں سے نہیں ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما عرب کے نصاریٰ کو بھی اسی معنیٰ میں لیتے ہیں اور یہ کہ ان کا ذبیحہ نہ کھایا جائے گا۔