السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب نكاح حرائر أهل الكتاب، وإمائهم وإماء المسلمين -- باب: ما جاء في تحريم حرائر أهل الشرك دون أهل الكتاب، وتحريم المؤمنات على الكفار باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں اہلِ کتاب کی آزاد عورتوں، ان کی لونڈیوں اور مسلمانوں کی لونڈیوں سے نکاح کا بیان ہے۔ -- باب: اہلِ کتاب کے علاوہ دیگر مشرکین کی آزاد عورتوں کی حرمت کا بیان، اور کافروں پر مومن عورتوں کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْهِلَالِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ، فَدِينُنَا خَيْرُ الْأَدْيَانِ، وَمِلَّتُنَا فَوْقَ الْمِلَلِ، وَرِجَالُنَا فَوْقَ نِسَائِهِمْ، وَلَا يَكُونُ رِجَالُهُمْ فَوْقَ نِسَائِنَا " قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا النُّعْمَانُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَهْلُ الْكِتَابِ الَّذِي يَحِلُّ نِكَاحُ حَرَائِرِهِمْ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ الْمَشْهُورَيْنِ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ: وَهُمُ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، دُونَ الْمَجُوسِ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا الْأَثَرُ الْمَشْهُورُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَحَمَلَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ مَعَ الِاسْتِدْلَالِ بِرِوَايَةٍ بِحَالَةٍ عَلَى الْجِزْيَةِ فَهُمْ مُلْحَقُونَ بِهِمْ فِي حَقْنِ الدَّمِ بِالْجِزْيَةِ دُونَ غَيْرِهَا وَاللهُ أَعْلَمُ.عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ نے رسول کریم ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، تاکہ وہ تمام ادیان پر غالب آئے۔ ہمارا دین تمام ادیان سے بہتر اور ہماری ملت تمام ملتوں سے افضل ہے اور ہمارے مرد ان کی عورتوں پر فوقیت رکھتے ہیں اور ان کے مرد اس طرح نہیں ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل کتاب کی آزاد عورتیں حلال ہیں یعنی عیسائی اور یہودی، لیکن مجوس کی عورتیں جائز نہیں ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ «سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ» ”ان (یعنی مجوس) کے ساتھ اہل کتاب والا طریقہ رکھو۔“ تو اہل علم نے بجالہ کی روایت سے اس کو جزیہ پر محمول کیا ہے، وہ ان کو خون بہا میں جزیہ کے ساتھ ملا دیتے ہیں، اس کے علاوہ میں نہیں۔