السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب نكاح حرائر أهل الكتاب، وإمائهم وإماء المسلمين -- باب: ما جاء في تحريم حرائر أهل الشرك دون أهل الكتاب، وتحريم المؤمنات على الكفار باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں اہلِ کتاب کی آزاد عورتوں، ان کی لونڈیوں اور مسلمانوں کی لونڈیوں سے نکاح کا بیان ہے۔ -- باب: اہلِ کتاب کے علاوہ دیگر مشرکین کی آزاد عورتوں کی حرمت کا بیان، اور کافروں پر مومن عورتوں کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ} [الممتحنة: 10]، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَزَعَمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ أَنَّهَا أُنْزِلَتْ فِي مُهَاجِرَةٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَسَمَّاهَا بَعْضُهُمُ ابْنَةَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَأَهْلُ مَكَّةَ أَهْلُ أَوْثَانٍ، وَإِنَّ قَوْلَ اللهِ تَعَالَى {وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ} [الممتحنة: 10] نَزَلَتْ فِي مُهَاجِرٍ، مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ مُؤْمِنًا وَإِنَّمَا نَزَلَتْ فِي الْهُدْنَةِ.اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾ ”جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان لو، اللہ ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے، پھر اگر تم جان لو کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کافروں کی طرف واپس نہ لوٹاؤ، نہ وہ (عورتیں) ان (کافروں) کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لیے حلال ہیں۔“ [سورة الممتحنة: 10]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور قرآن کا علم رکھنے والے بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ آیت اہلِ مکہ میں سے ایک ہجرت کرنے والی عورت کے بارے میں نازل ہوئی، اور ان میں سے بعض نے اس کا نام عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی (سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا) بتایا ہے، اور اہلِ مکہ بت پرست تھے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ﴾ ”اور کافر عورتوں کی ناموس (نکاح) کو اپنے قبضے میں نہ رکھو۔“ [سورة الممتحنة: 10] اہلِ مکہ میں سے ایک مومن مہاجر (مرد) کے بارے میں نازل ہوا، اور یہ (آیت) صلح (حدیبیہ) کے زمانے میں نازل ہوئی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي كَامِلٍ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، يُخْبِرَانِ خَبَرًا مِنْ خَبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ، فَكَانَ فِيمَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْهُمَا أَنَّهُ لَمَّا كَاتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى قَضِيَّةِ الْمُدَّةِ كَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ، إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، وَأَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى ذَلِكَ فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ، وَأَلْغَطُوا فِيهِ وَتَكَلَّمُوا فِيهِ، فَلَمَّا أَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا عَلَى ذَلِكَ كَاتَبَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ أَبَا جَنْدَلِ بْنَ سُهَيْلٍ يَوْمَئِذٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَأْتِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ، إِلَّا رَدَّ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ، وَإِنْ كَانَ ⦗٢٧٧⦘ مُسْلِمًا، ثُمَّ جَاءَتِ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ، وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومِ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ هَاجَرَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ فِي الْمُؤْمِنَاتِ مَا أَنْزَلَ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے مجھے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کو حدیبیہ کے دن مقررہ مدت کا معاہدہ لکھوایا، جس میں سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے شرط رکھی کہ اگر ہمارا کوئی آدمی آپ کے پاس آئے گا تو آپ کو واپس کرنا ہوگا اور آپ ہمارے اور اس شخص کے درمیان سے ہٹ جائیں گے، اور سہیل رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف فیصلہ کریں لیکن مومنوں کو یہ معاہدہ گراں گزرا، انہوں نے شور کیا اور کلام کی۔
سہیل رضی اللہ عنہ کہنے لگا کہ اس شرط پر ہی معاہدہ ہوگا تو رسول اللہ ﷺ نے لکھوا دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے سہیل رضی اللہ عنہ کے بیٹے ابوجندل رضی اللہ عنہ کو سہیل رضی اللہ عنہ کی طرف واپس کر دیا۔ اگر اس مدت میں کوئی بھی مسلمان مرد رسول اللہ ﷺ کے پاس آتا تو آپ واپس کر دیتے، پھر جب مومنہ عورتیں ہجرت کر کے آئیں، جن میں عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا بھی تھیں، یہ آزاد تھیں تو ان کے گھر والوں نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا، پھر اللہ نے ان مومن عورتوں کے بارے میں نازل کیا جو بھی نازل فرمایا۔