السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في تحريم الجمع بين الأختين، وبين المرأة، وابنتها في الوطء بملك اليمين باب: ملکِ یمین (حقِ ملکیت) کے ذریعے وطی کرنے میں دو بہنوں کو، اور ماں بیٹی کو ایک ساتھ جمع کرنے کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13934
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو زَكَرِيَّا قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يُخْبِرُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَعْمَرٍ، جَاءَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَ لَهَا: إِنَّ لِي سُرِّيَّةً أَصَبْتُهَا، وَإِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ لَهَا ابْنَةٌ جَارِيَةٌ لِي، أَفَأَسْتَسِرُّ ابْنَتَهَا؟ فَقَالَتْ: " لَا " قَالَ: فَإِنِّي وَاللهِ لَا أَدَعُهَا إِلَّا أَنْ تَقُولِي حَرَّمَهَا اللهُ، فَقَالَتْ: " لَا يَفْعَلُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِي، وَلَا أَحَدٌ أَطَاعَنِي ".حافظ ثناء اللہ
معاذ بن عبیداللہ بن معمر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہنے لگے: میری ایک لونڈی تھی، میں نے اس سے مجامعت کر لی اور اس کی بیٹی (بھی) میری لونڈی ہے، کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہ چھوڑوں گا کہ آپ کہہ دیں کہ اللہ نے حرام قرار دیا ہے، آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نہ تو میرے اہل میں سے کسی نے ایسا کیا ہے اور نہ ہی میری اطاعت کرنے والوں میں سے کسی نے ایسا کیا ہے۔