السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في تحريم الجمع بين الأختين، وبين المرأة، وابنتها في الوطء بملك اليمين باب: ملکِ یمین (حقِ ملکیت) کے ذریعے وطی کرنے میں دو بہنوں کو، اور ماں بیٹی کو ایک ساتھ جمع کرنے کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13933
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو زَكَرِيَّا قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْأُمِّ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ، فَقَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنْ يُجِيزَهُمَا جَمِيعًا " قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: قَالَ أَبِي: فَوَدِدْتُ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَانَ أَشَدَّ فِي ذَلِكَ مِمَّا هُوَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ غَلِطَ الْمُزَنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَدِدْتُ، وَإِنَّمَا هُوَ ابْنُ عُتْبَةَ لَا شَكَّ فِيهِ.حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان لونڈیوں کے متعلق سوال ہوا جو آپس میں ماں بیٹی ہوں، تو وہ فرمانے لگے: میں ان دونوں کو اکٹھے جائز قرار نہیں دیتا۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس میں زیادہ سختی فرماتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: مزنی رحمہ اللہ سے غلطی ہوگئی، اللہ تعالیٰ ہم پر اور ان پر رحم فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں چاہتا ہوں۔ وہ عتبہ کے بیٹے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے۔