السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في تحريم الجمع بين الأختين، وبين المرأة، وابنتها في الوطء بملك اليمين باب: ملکِ یمین (حقِ ملکیت) کے ذریعے وطی کرنے میں دو بہنوں کو، اور ماں بیٹی کو ایک ساتھ جمع کرنے کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ فِيمَا مَلَكَتِ الْيَمِينُ قَالَ: أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ أَنَّ نِيَارًا الْأَسْلَمِيَّ، سَأَلَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأُخْتَيْنِ، فِيمَا مَلَكَتِ الْيَمِينُ، فَقَالَ لَهُ: " أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ وَلَمْ أَكُنْ لِأَفْعَلَ ذَلِكَ قَالَ: فَخَرَجَ نِيَارٌ مِنْ عِنْدِ ذَاكَ الرَّجُلِ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ آخَرُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أَفْتَاكَ بِهِ صَاحِبُكَ الَّذِي اسْتَفْتَيْتَهُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَنْهَاكَ عَنْهُمَا، وَلَوْ جَمَعْتَ بَيْنَهُمَا وَلِي عَلَيْكَ سُلْطَانٌ عَاقَبْتُكَ عُقُوبَةً مُنَكِّلَةً ".یونس ابن شہاب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے دو لونڈیاں جو آپس میں بہنیں ہوں ان کو ایک جگہ جمع کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ نیار اسلمی رحمہ اللہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے سوال کیا کہ کیا دو بہنیں جو لونڈیاں ہوں ان کو ایک ملکیت میں جمع کیا جا سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ”ایک آیت دونوں کو حلال قرار دیتی ہے جبکہ دوسری حرام قرار دیتی ہے، لیکن میں ایسا نہیں کرتا۔“ تو نیار اسلمی رحمہ اللہ اس آدمی کے پاس سے نکلے تو دوسرے صحابیِ رسول ﷺ سے ملے، انہوں نے پوچھا: ”جس سے آپ نے فتویٰ طلب کیا تھا اس نے کیا فتویٰ دیا ہے؟“ انہوں نے خبر دی تو وہ کہنے لگے: ”میں ان دونوں کو جمع کرنے سے منع کرتا ہوں۔ اگر تو دونوں کو جمع کرے گا اور میرے لیے حکومت ہو تو میں تجھے ایسی سزا دوں جو دوسروں کے لیے عبرت بن جائے۔“