السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في تحريم الجمع بين الأختين، وبين المرأة، وابنتها في الوطء بملك اليمين باب: ملکِ یمین (حقِ ملکیت) کے ذریعے وطی کرنے میں دو بہنوں کو، اور ماں بیٹی کو ایک ساتھ جمع کرنے کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْأُخْتَيْنِ مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ هَلْ يُجْمَعُ بَيْنَهُمَا؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ، وَأَمَّا أَنَا فَلَا أُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ هَذَا قَالَ: فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَوْ كَانَ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ ثُمَّ وَجَدْتُ أَحَدًا فَعَلَ ذَلِكَ لَجَعَلْتُهُ نَكَالًا " قَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَرَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ مَالِكٌ: وَبَلَغَنِي عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ مِثْلُ ذَلِكَ.قبیصہ بن ذویب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا دو بہنیں جو لونڈی ہوں، ان کو ایک جگہ جمع کیا جاسکتا ہے؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آیت حلت اور دوسری آیت حرمت پر دلالت کرتی ہے، لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں۔ قبیصہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکل کر نبی کریم ﷺ کے صحابہ سے ملا، انہوں نے فرمایا: اگر میرے اختیار میں کوئی چیز ہو، پھر میں کسی کو پا لوں کہ اس نے ایسا کیا ہے تو میں اسے لوگوں کے لیے عبرت بنا دوں۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زہری رحمہ اللہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔