السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في قوله تعالى: ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نے نکاح کیا ہو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13918
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَقِيتُ عَمِّي وَقَدِ اعْتَقَدَ رَايَةً، فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَضْرِبُ عُنُقَهُ وَآخُذُ مَالَهُ ".حافظ ثناء اللہ
یزید بن براء اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں اپنے چچا (رضی اللہ عنہ) سے ملا، انہوں نے جھنڈا اٹھا رکھا تھا، میں نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بھیجا ہے: ”اس شخص کی جانب جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے کہ میں اس کی گردن اتار دوں اور اس کا مال بھی لے لوں۔“