السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في معنى الدخول المشروط في تحريم الربيبة، ومن لمس جاريته، فأراد ابنه أن يقربها بعد ما ملكها باب: ربیبہ (سوتیلی بیٹی) کی حرمت میں شرط قرار دی گئی خلوتِ صحیحہ (دخول) کے معنی کا بیان، اور اس شخص کا بیان جس نے اپنی لونڈی کو چھوا، پھر اس کے بیٹے نے اس کی ملکیت حاصل کرنے کے بعد اس کے پاس جانے کا ارادہ کیا۔
حدیث نمبر: 13919
قَالَ الْبُخَارِيُّ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: الدُّخُولُ وَاللِّمَاسُ هُوَ الْجِمَاعُ.حافظ ثناء اللہ
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”دخول اور لماس (چھونے) سے مراد جماع ہے۔“
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ} [النساء: ٢٣]: " الدُّخُولُ النِّكَاحُ يُرِيدُ بِالنِّكَاحِ الْجِمَاعَ، وَقَالَ فِي الْمَسِّ وَاللَّمْسِ وَالْإِفْضَاءِ نَحْوَ ذَلِكَ "، وَبَلَغَنِي عَنْ طَاوُسٍ أَنَّهُ قَالَ: " الدُّخُولُ الْجِمَاعُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے قول ﴿مِّنْ نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ﴾ [سورة النساء: 23] کے متعلق فرماتے ہیں: تمہاری وہ عورتیں جن سے تم نے مجامعت کرلی ہے۔ «الدُّخُولُ» نکاح ہے اور نکاح سے مراد جماع ہے اور اس طرح «الْمَسُّ»، «اللَّمْسُ»، «الْإِفْضَاءُ» جماع کے معنی میں ہیں اور طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ «الدُّخُولُ» کا معنی جماع ہے۔