کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نے نکاح کیا ہو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13917
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، أنبأ هُشَيْمٌ، أنبأ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: لَمَّا مَاتَ أَبُو قَيْسِ بْنُ الْأَسْلَتِ، خَطَبَ ابْنُهُ قَيْسٌ امْرَأَةَ أَبِيهِ، فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا قَيْسٍ قَدْ هَلَكَ، وَإِنَّ ابْنَهُ قَيْسٌ مِنْ خِيَارِ الْحِيِّ، قَدْ خَطَبَنِي إِلَى نَفْسِي، فَقُلْتُ لَهُ: مَا كُنْتُ أَعُدُّكَ إِلَّا وَلَدًا، وَمَا أَنَا بِالَّتِي أَسْبِقُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ، قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ ⦗٢٦٢⦘} [النساء: ٢٢] " هَذَا مُرْسَلٌ وَبِمَعْنَاهُ ذَكَرَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ التَّفْسِيرِ.
حافظ ثناء اللہ
عدی بن ثابت انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ابو قیس بن سلت رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان کے بیٹے قیس نے اپنے باپ کی بیوی کو پیغامِ نکاح دیا تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آگئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! ابو قیس فوت ہو گئے ہیں، ان کا بیٹا قیس قبیلے کا اچھا آدمی ہے، اس نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے، میں نے اس سے کہا کہ میں تجھے اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں، میں پہلے رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے والی ہوں، تو رسول اللہ ﷺ خاموش رہے تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ﴾ [سورة النساء: 22] ”تم نکاح نہ کرو جن عورتوں سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو۔“
حدیث نمبر: 13918
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَقِيتُ عَمِّي وَقَدِ اعْتَقَدَ رَايَةً، فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَضْرِبُ عُنُقَهُ وَآخُذُ مَالَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن براء اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں اپنے چچا (رضی اللہ عنہ) سے ملا، انہوں نے جھنڈا اٹھا رکھا تھا، میں نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بھیجا ہے: ”اس شخص کی جانب جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے کہ میں اس کی گردن اتار دوں اور اس کا مال بھی لے لوں۔“