السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في قول الله تعالى: {وأمهات نسائكم وربائبكم اللاتي في حجوركم من نسائكم اللاتي دخلتم بهن} [النساء: ٢٣] الآية باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری وہ زیرِ پرورش سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری ان بیویوں کے بطن سے ہیں جن سے تم خلوت کر چکے ہو“ [النساء: 23] تا آخرِ آیت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13908
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: هِيَ مُبْهَمَةٌ وَكَرِهَهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے بارے میں فرمایا جس نے کسی عورت سے شادی کی، پھر دخول سے پہلے اس کو طلاق دی یا وہ فوت ہو گئی، تو اس شخص کے لیے اس کی والدہ سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، چاہے طلاق دے یا فوت ہو جائے۔ یہ حسن رحمہ اللہ اور قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔