السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في قول الله تعالى: {وأمهات نسائكم وربائبكم اللاتي في حجوركم من نسائكم اللاتي دخلتم بهن} [النساء: ٢٣] الآية باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری وہ زیرِ پرورش سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری ان بیویوں کے بطن سے ہیں جن سے تم خلوت کر چکے ہو“ [النساء: 23] تا آخرِ آیت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13907
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: سُئِلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا هَلْ تَحِلُّ لَهُ أُمُّهَا؟ فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: " لَا الْأُمُّ مُبْهَمَةٌ لَيْسَ فِيهَا شَرْطٌ إِنَّمَا الشَّرْطُ فِي الرَّبَائِبِ "، هَذَا مُنْقَطِعٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنْ ⦗٢٥٩⦘ كَانَتْ مَاتَتْ فَوَرِثَهَا، فَلَا تَحِلُّ لَهُ أُمُّهَا، وَإِنْ طَلَّقَهَا، فَإِنَّهُ يَتَزَوَّجُهَا إِنْ شَاءَ، وَقَوْلُ الْجَمَاعَةِ أَوْلَى.حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ کوئی شخص شادی کے بعد مجامعت سے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کی والدہ سے شادی کر سکتا ہے؟ تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: نہیں، یہ تو اس کی والدہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے، اس میں کوئی شرط نہیں ہے، لیکن بچیوں کے بارے میں شرط ہے۔
(ب) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر وہ فوت ہو جائے تو اس کی والدہ سے نکاح جائز نہیں ہے، اگر اس کو طلاق دے دے تو پھر اگر چاہے تو نکاح کر لے۔