کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری وہ زیرِ پرورش سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری ان بیویوں کے بطن سے ہیں جن سے تم خلوت کر چکے ہو“ [النساء: 23] تا آخرِ آیت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13903
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي شَمْخٍ مِنْ فَزَارَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً ثُمَّ رَأَى أُمَّهَا فَأَعْجَبَتْهُ، فَاسْتَفْتَى ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُفَارِقَهَا وَيَتَزَوَّجَ أُمَّهَا، فَتَزَوَّجَهَا فَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا، ثُمَّ أَتَى ابْنُ مَسْعُودٍ الْمَدِينَةَ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ، فَأُخْبِرَ أَنَّهَا " لَا تَحِلُّ ⦗٢٥٨⦘ لَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى الْكُوفَةِ قَالَ لِلرَّجُلِ: " إِنَّهَا عَلَيْكَ حَرَامٌ إِنَّهَا لَا تَنْبَغِي لَكَ فَفَارِقْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فزارہ قبیلہ کی شاخ بنو شمخ کی ایک عورت سے ایک شخص نے شادی کی، پھر اس بچی کی والدہ کو دیکھا تو وہ اسے زیادہ اچھی لگی، اس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں فتویٰ طلب کیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فتویٰ دیا کہ بچی کو جدا کر کے اس کی والدہ سے شادی کر لو۔ اس شخص نے شادی کر لی اور اس سے اولاد بھی ہوئی، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ آئے تو انہوں نے اس کے بارے میں پوچھا تو ان کو بتایا گیا کہ یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے، پھر جب وہ کوفہ آئے تو اس شخص سے کہا: یہ تجھ پر حرام ہے، تمہارے لیے مناسب نہیں ہے، اس کو الگ کر دو۔
حدیث نمبر: 13904
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ وَهُوَ أَبُو عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي شَمْخٍ، فَرَأَى بَعْدُ أُمَّهَا، فَأَعْجَبَتْهُ، فَذَهَبَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنِّي " تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً لَمْ أَدْخُلْ بِهَا، ثُمَّ أَعْجَبَتْنِي أُمُّهَا، فَأُطَلِّقُ الْمَرْأَةَ وَأَتَزَوَّجُ أُمَّهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَطَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَ أُمَّهَا، فَأَتَى عَبْدُ اللهِ الْمَدِينَةَ، فَسَأَلَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: لَا تَصْلُحُ، ثُمَّ قَدِمَ، فَأَتَى بَنِي شَمْخٍ، فَقَالَ: " أَيْنَ الرَّجُلُ الَّذِي تَزَوَّجَ أُمَّ الْمَرْأَةِ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَهُ؟ قَالُوا: هَاهُنَا قَالَ: فَلْيُفَارِقْهَا، قَالُوا: وَقَدْ نَثَرَتْ لَهُ بَطْنُهَا؟ قَالَ: فَلْيُفَارِقْهَا فَإِنَّهَا حَرَامٌ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ "، وَبِهَذَا الْمَعْنَى رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ایاس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بنو شمخ کی ایک عورت سے شادی کی، اس شخص نے اس کے بعد اس کی والدہ کو دیکھا تو وہ اس کو اچھی لگی، وہ شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہنے لگا: ”میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے لیکن مجامعت ابھی نہیں کی، پھر اس کی والدہ مجھے زیادہ اچھی لگی، کیا میں اس عورت کو طلاق دے کر اس کی والدہ سے شادی کر لوں؟“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”ہاں، کر لو۔“ اس نے طلاق دے کر اس کی والدہ سے شادی کر لی، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مدینہ آ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ درست نہیں ہے“، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بنو شمخ کے پاس آئے اور فرمایا: ”وہ شخص کدھر ہے جس نے اس عورت کی والدہ سے شادی کی تھی جو اس کے نکاح میں تھی؟“ انہوں نے کہا: ”یہ ہے“، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”اس کو جدا کر دے“، انہوں نے کہا کہ وہ حاملہ ہو چکی تھی، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کو جدا کر دے، یہ اللہ کی جانب سے حرام ہے۔“
حدیث نمبر: 13905
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَجَّاجُ، ثنا حَمَّادٌ، أنبأ الْحَجَّاجُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَيَتَزَوَّجُ أُمَّهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ، " فَتَزَوَّجَهَا، فَوَلَدَتْ لَهُ، فَقَدِمَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " فَرِّقْ بَيْنَهُمَا " قَالَ: إِنَّهَا قَدْ وَلَدَتْ قَالَ: " وَإِنْ وَلَدَتْ عَشْرًا " فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
ابو عمرو شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا مرد اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کی والدہ سے شادی کرلے؟ فرمانے لگے: ہاں۔ اس نے شادی کی، اولاد ہو گئی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، انہوں نے فرمایا: ان کے درمیان تفریق پیدا کرو۔ فرمانے لگے: اس کی تو اولاد ہو چکی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر دس بچے بھی ہو چکے، پھر بھی ان کے درمیان جدائی ڈال دو۔
حدیث نمبر: 13906
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُرَخِّصُ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَنْ يَتَزَوَّجَ أُمَّهَا قَالَ: فَأَتَى الْمَدِينَةَ، فَكَأَنَّهُ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " فَرَجَعَ "، كَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ فِي الْمَوْتِ، وَخَالَفَهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، فَرَوَاهُ عَنْ أَبِي فَرْوَةَ فِي الطَّلَاقِ، وَإِذَا اخْتَلَفَ سُفْيَانُ، وَشُعْبَةُ فَالْحُكْمُ لِرِوَايَةِ سُفْيَانَ لِأَنَّهُ أَحْفَظُ وَأَفْقَهُ، وَمَعَ رِوَايَةِ سُفْيَانَ رِوَايَةُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
ابو عمرو شیبانی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس شخص کو جس کی بیوی دخول سے پہلے فوت ہو گئی، اس کی والدہ سے نکاح کی رخصت دیتے تھے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہوں نے رجوع کر لیا۔
حدیث نمبر: 13907
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: سُئِلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا هَلْ تَحِلُّ لَهُ أُمُّهَا؟ فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: " لَا الْأُمُّ مُبْهَمَةٌ لَيْسَ فِيهَا شَرْطٌ إِنَّمَا الشَّرْطُ فِي الرَّبَائِبِ "، هَذَا مُنْقَطِعٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنْ ⦗٢٥٩⦘ كَانَتْ مَاتَتْ فَوَرِثَهَا، فَلَا تَحِلُّ لَهُ أُمُّهَا، وَإِنْ طَلَّقَهَا، فَإِنَّهُ يَتَزَوَّجُهَا إِنْ شَاءَ، وَقَوْلُ الْجَمَاعَةِ أَوْلَى.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ کوئی شخص شادی کے بعد مجامعت سے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کی والدہ سے شادی کر سکتا ہے؟ تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: نہیں، یہ تو اس کی والدہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے، اس میں کوئی شرط نہیں ہے، لیکن بچیوں کے بارے میں شرط ہے۔
(ب) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر وہ فوت ہو جائے تو اس کی والدہ سے نکاح جائز نہیں ہے، اگر اس کو طلاق دے دے تو پھر اگر چاہے تو نکاح کر لے۔
(ب) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر وہ فوت ہو جائے تو اس کی والدہ سے نکاح جائز نہیں ہے، اگر اس کو طلاق دے دے تو پھر اگر چاہے تو نکاح کر لے۔
حدیث نمبر: 13908
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: هِيَ مُبْهَمَةٌ وَكَرِهَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے بارے میں فرمایا جس نے کسی عورت سے شادی کی، پھر دخول سے پہلے اس کو طلاق دی یا وہ فوت ہو گئی، تو اس شخص کے لیے اس کی والدہ سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، چاہے طلاق دے یا فوت ہو جائے۔ یہ حسن رحمہ اللہ اور قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔
حدیث نمبر: 13909
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ} [النساء: ٢٣] قَالَ: " مَا أَرْسَلَ اللهُ، فَأَرْسِلُوهُ وَمَا بَيَّنَ فَاتَّبِعُوهُ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ} [النساء: ٢٣] قَالَ: فَأَرْسَلَ هَذِهِ وَبَيَّنَ هَذِهِ "، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهُوَ قَوْلُ عَطَاءٍ، وَعِكْرِمَةَ وَغَيْرِهِمْ وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مسروق رحمہ اللہ اللہ کے فرمان ﴿وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ﴾ [سورة النساء: 23] ”اور تمہاری بیویوں کی مائیں“ کے متعلق فرماتے ہیں: جس کو اللہ نے چھوڑ دیا ہے تم بھی ان کو چھوڑ دو اور جو واضح ہے اس کی اتباع کرو۔ پھر پڑھا: ﴿وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ﴾ [سورة النساء: 23] ”اور تمہاری بیویوں کی بچیاں جو تمہاری گودوں میں ہیں، جن سے تم مجامعت کرچکے ہو۔ اگر تم نے مجامعت نہ کی ہو پھر تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ہے۔“ اس کو چھوڑا اور اس کی وضاحت کردی۔
حدیث نمبر: 13910
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُعَلَّى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا مُثَنَّى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا نَكَحَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَلَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ ابْنَتَهَا، وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُمَّهَا "، مُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَقَدْ تَابَعَهُ عَلَى هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جب کوئی شخص عورت سے شادی کے بعد مجامعت سے پہلے طلاق دے دے تو وہ اس کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے، لیکن اس کی والدہ سے شادی نہیں کر سکتا۔“
حدیث نمبر: 13911
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٢٦٠⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً، فَدَخَلَ بِهَا، أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، فَلَا يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُ أُمِّهَا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً، فَدَخَلَ بِهَا، فَلَا يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُ ابْنَتِهَا، وَإِنْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، فَلْيَنْكِحِ ابْنَتَهَا إِنْ شَاءَ " وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی عورت سے شادی کی، اس سے مجامعت کی ہے یا نہیں، وہ اس کی والدہ سے نکاح نہیں کر سکتا اور جس شخص نے کسی عورت سے شادی کی اور مجامعت بھی کر لی تو اس کی بیٹی سے بھی نکاح نہیں کر سکتا، اگر دخول نہیں کیا تو اس کی بیٹی سے نکاح جائز ہے اگر چاہے۔“