حدیث نمبر: 13905
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَجَّاجُ، ثنا حَمَّادٌ، أنبأ الْحَجَّاجُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَيَتَزَوَّجُ أُمَّهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ، " فَتَزَوَّجَهَا، فَوَلَدَتْ لَهُ، فَقَدِمَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " فَرِّقْ بَيْنَهُمَا " قَالَ: إِنَّهَا قَدْ وَلَدَتْ قَالَ: " وَإِنْ وَلَدَتْ عَشْرًا " فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا.
حافظ ثناء اللہ

ابو عمرو شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا مرد اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کی والدہ سے شادی کرلے؟ فرمانے لگے: ہاں۔ اس نے شادی کی، اولاد ہو گئی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، انہوں نے فرمایا: ان کے درمیان تفریق پیدا کرو۔ فرمانے لگے: اس کی تو اولاد ہو چکی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر دس بچے بھی ہو چکے، پھر بھی ان کے درمیان جدائی ڈال دو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13905
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»