السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في قول الله تعالى: {وأمهات نسائكم وربائبكم اللاتي في حجوركم من نسائكم اللاتي دخلتم بهن} [النساء: ٢٣] الآية باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری وہ زیرِ پرورش سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری ان بیویوں کے بطن سے ہیں جن سے تم خلوت کر چکے ہو“ [النساء: 23] تا آخرِ آیت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ وَهُوَ أَبُو عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي شَمْخٍ، فَرَأَى بَعْدُ أُمَّهَا، فَأَعْجَبَتْهُ، فَذَهَبَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنِّي " تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً لَمْ أَدْخُلْ بِهَا، ثُمَّ أَعْجَبَتْنِي أُمُّهَا، فَأُطَلِّقُ الْمَرْأَةَ وَأَتَزَوَّجُ أُمَّهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَطَلَّقَهَا، فَتَزَوَّجَ أُمَّهَا، فَأَتَى عَبْدُ اللهِ الْمَدِينَةَ، فَسَأَلَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: لَا تَصْلُحُ، ثُمَّ قَدِمَ، فَأَتَى بَنِي شَمْخٍ، فَقَالَ: " أَيْنَ الرَّجُلُ الَّذِي تَزَوَّجَ أُمَّ الْمَرْأَةِ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَهُ؟ قَالُوا: هَاهُنَا قَالَ: فَلْيُفَارِقْهَا، قَالُوا: وَقَدْ نَثَرَتْ لَهُ بَطْنُهَا؟ قَالَ: فَلْيُفَارِقْهَا فَإِنَّهَا حَرَامٌ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ "، وَبِهَذَا الْمَعْنَى رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.سعید بن ایاس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بنو شمخ کی ایک عورت سے شادی کی، اس شخص نے اس کے بعد اس کی والدہ کو دیکھا تو وہ اس کو اچھی لگی، وہ شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہنے لگا: ”میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے لیکن مجامعت ابھی نہیں کی، پھر اس کی والدہ مجھے زیادہ اچھی لگی، کیا میں اس عورت کو طلاق دے کر اس کی والدہ سے شادی کر لوں؟“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”ہاں، کر لو۔“ اس نے طلاق دے کر اس کی والدہ سے شادی کر لی، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مدینہ آ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ درست نہیں ہے“، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بنو شمخ کے پاس آئے اور فرمایا: ”وہ شخص کدھر ہے جس نے اس عورت کی والدہ سے شادی کی تھی جو اس کے نکاح میں تھی؟“ انہوں نے کہا: ”یہ ہے“، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”اس کو جدا کر دے“، انہوں نے کہا کہ وہ حاملہ ہو چکی تھی، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کو جدا کر دے، یہ اللہ کی جانب سے حرام ہے۔“