حدیث نمبر: 13876
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ جَارِيَةً فَجَرَتْ فَأُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدُّ، ثُمَّ إِنَّهُمْ أَقْبَلُوا مُهَاجِرِينَ، فَتَابَتِ الْجَارِيَةُ، فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا وَحَالُهَا فَكَانَتْ، تُخْطَبُ إِلَى عَمِّهَا، فَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا حَتَّى يُخْبِرَ مَا كَانَ مِنْ أَمْرِهَا، وَجَعَلَ يَكْرَهُ أَنْ يُفْشِيَ عَلَيْهَا ذَلِكَ فَذَكَرَ أَمْرَهَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: " زَوِّجْهَا كَمَا تُزَوِّجُوا صَالِحِي فَتَيَاتِكُمْ " وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ بِكْرٍ افْتَضَّ امْرَأَةً وَاعْتَرَفَا، فَجَلَدَهُمَا مِائَةً ثُمَّ زَوَّجَ أَحَدَهُمَا مِنَ الآخَرِ مَكَانَهُ وَنَفَاهُمَا سَنَةً.
حافظ ثناء اللہ

امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک بچی کو لا کر حد قائم کی گئی، پھر انہوں نے مہاجرین کو پیش کر دی تو لونڈی نے توبہ کی، اس کی توبہ اچھی تھی اور اس کا حال بھی درست تھا۔ اس نے اپنے چچا کی طرف پیغامِ نکاح بھیجا، لیکن وہ اس کی شادی کرنا پسند نہ کرتا تھا جب تک وہ اپنے معاملے کی مکمل خبر نہ دے اور اس کے راز کو ظاہر کرنا بھی پسند نہ کرتا تھا۔ اس بچی کا معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش ہوا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے چچا سے کہا: ”آپ اس کی شادی کریں جیسے اپنی نیک بچیوں کی شادی کرتے ہیں۔“
(ب) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ایک کنوارے مرد کے بارے میں نقل کیا جاتا ہے کہ اس نے کسی عورت سے زنا کر لیا، انہوں نے اعتراف کر لیا تو دونوں کو سو سو کوڑے لگائے، پھر دونوں کی شادی اسی جگہ کر دی اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13876
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 866»