السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما يستدل به على قصر الآية على ما نزلت فيه أو نسخها باب: اس بات پر دلالت کرنے والی روایات کا بیان کہ یہ آیت اپنے شانِ نزول تک محدود ہے یا منسوخ ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 13875
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَهَا ابْنَةٌ مِنْ غَيْرِهِ، وَلَهُ ابْنٌ مِنْ غَيْرِهَا، فَفَجَرَ الْغُلَامُ بِالْجَارِيَةِ فَظَهَرَ بِهَا حَبَلٌ، فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَكَّةَ رُفِعَ ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَسَأَلَهُمَا فَاعْتَرَفَا، ⦗٢٥١⦘ فَجَلَدَهُمَا عُمَرُ الْحَدَّ، وَحَرَصَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَأَبَى الْغُلَامُ ".حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن ابی یزید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کسی عورت سے شادی کی، اس کی بیٹی دوسرے خاوند سے تھی اور اس مرد کا بیٹا کسی دوسری بیوی سے تھا، بچے نے بچی سے زنا کر لیا تو حمل ظاہر ہو گیا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مکہ آئے تو ان کے سامنے معاملہ پیش ہوا۔ جب ان دونوں سے پوچھا گیا تو دونوں نے اعتراف کر لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دونوں کو حد لگائی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تمنا تھی کہ دونوں کو جمع کر دیا جائے، لیکن بچے نے انکار کر دیا۔