السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: من لم يزد على عقد النكاح باب: اس شخص کا بیان جس نے عقدِ نکاح پر کوئی اضافہ نہ کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَاصِمٌ هُوَ ابْنُ عَلِيٍّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تَعْرِضُ نَفْسَهَا عَلَيْهِ، فَخَفَّضَ فِيهَا الْبَصَرَ وَرَفَعَهُ فَلَمْ يُرِدْهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ؟ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا عِنْدِي شَيْءٌ قَالَ: " وَلَا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ؟ " قَالَ: وَلَا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ وَلَكِنْ أَشُقُّ بُرْدَتِي هَذِهِ، فَأُعْطِيهَا النِّصْفَ وَآخُذُ النِّصْفَ قَالَ: " لَا وَلَكِنْ هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ سُلَيْمَانَ.سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے تو ایک عورت نے نبی ﷺ پر اپنا آپ پیش کر دیا۔ آپ ﷺ نے نظر جھکائی اور اٹھائی، لیکن آپ ﷺ نے اس کا قصد نہ کیا تو صحابہ میں سے ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کا نکاح مجھ سے کر دیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے؟“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے پاس کچھ نہیں۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں؟“ تو کہنے لگا: ”لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں، لیکن میں اپنی چادر دو حصوں میں تقسیم کر کے آدھی اس کو دے دیتا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ! میں نے تیرا نکاح اس کے ساتھ اس قرآن کے بدلے کر دیا ہے (یعنی اسے تعلیم دے دینا)۔“