السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما يستحب للولي من الخطبة والكلام باب: ولی کے لیے خطبہ دینے اور گفتگو کرنے کے ان طریقوں کا بیان جو مستحب ہیں۔
حدیث نمبر: 13833
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا أَنْكَحَ قَالَ: " أُنْكِحُكَ عَلَى مَا أَمَرَ اللهُ بِهِ إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ".حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب بھی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نکاح پڑھاتے تو فرماتے: میں تیرا نکاح ویسے کرتا ہوں جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] ”یا تو بھلائی سے چھوڑ دینا ہے یا اچھائی سے روکے رکھنا ہے۔“