السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا نكاح لمن لم يولد باب: اس بیان میں کہ جو ابھی پیدا نہیں ہوا اس کا کوئی نکاح نہیں۔
حدیث نمبر: 13825
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، أَنَّ خَالَتَهُ، أَخْبَرَتْهُ عَنِ امْرَأَةٍ قَالَ: هِيَ مُصَدَّقَةٌ امْرَأَةُ صِدْقٍ قَالَتْ: " بَيْنَا أَنَا فِي غَزَاةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذْ رَمِضُوا، فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ يُعْطِينِي نَعْلَيْهِ وَأُنْكِحَهُ أَوَّلَ بِنْتٍ تُولَدُ لِي؟ فَخَلَعَ أَبِي نَعْلَيْهِ، فَأَلْقَاهُمَا إِلَيْهِ فَوُلِدَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَبَلَغَتْ ذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْقَتِيرِ وَالْقَتِيرُ الشَّيْبُ.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن میسرہ اپنی خالہ سے، جو ایک سچی عورت سے نقل کرتی ہیں، کہتی ہیں: ہم دورِ جاہلیت میں سخت گرمی میں ایک غزوہ میں تھے تو ایک شخص نے کہا: جو مجھے اپنے جوتے دے میں اس کو اپنی پہلی پیدا ہونے والی بیٹی کا نکاح دوں گا، تو میرے والد نے اپنے جوتے اتار کر دے دیے۔ اس کے ہاں بچی پیدا ہو کر بلوغت کی عمر کو پہنچی۔ اس طرح انہوں نے ذکر کیا لیکن «قَتِير» یعنی ”بڑھاپے“ کا تذکرہ نہیں کیا۔