السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا نكاح لمن لم يولد باب: اس بیان میں کہ جو ابھی پیدا نہیں ہوا اس کا کوئی نکاح نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ وَهُوَ ابْنُ ضَبَّةَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي سَارَةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ، وَأَنَا مَعَ أَبِي، وَبِيَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ، فَسَمِعْتُ الْأَعْرَابَ وَالنَّاسَ يَقُولُونَ: الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ، فَدَنَا مِنْهُ أَبِي، فَأَخَذَ بِقَدَمِهِ وَأَقَرَّ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: فَمَا نَسِيتُ طُولَ أُصْبُعِ قَدَمِهِ السَّبَّابَةِ عَلَى سَائِرِ أَصَابِعِهِ قَالَ: فَقَالَ لَهُ: إِنِّي شَهِدْتُ جَيْشَ عَثْرَانَ قَالَتْ: فَعَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْجَيْشَ، فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمُرَقَّعِ: مَنْ يُعْطِينِي رُمْحًا بِثَوَابِهِ قَالَ: فَقُلْتُ: وَمَا ثَوَابُهُ قَالَ: أُزَوِّجُهُ أَوَّلَ ابْنَةٍ تَكُونُ لِي قَالَ: فَأَعْطَيْتُهُ رُمْحِي، ثُمَّ تَرَكْتُهُ حَتَّى وُلِدَ لَهُ ابْنَةٌ وَبَلَغَتْ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: جَهِّزْ إِلِيَّ أَهْلِي، قَالَ: لَا وَاللهِ لَا أُجَهِّزُهَا حَتَّى تُحْدِثَ صَدَاقًا غَيْرَ ذَلِكَ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَفْعَلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَبِقَرْنِ أِيِّ النِّسَاءِ هِيَ؟ " قُلْتُ: قَدْ رَأَتِ الْقَتِيرَ قَالَ: فَنَظَرَ إِلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " دَعْهَا لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا " قَالَ: فَرَاعَنِي ذَلِكَ وَنَظَرَ إِلِيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَأْثَمُ وَلَا يَأْثَمُ "، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ ".سیدہ میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ تھی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مکہ میں اپنی اونٹنی پر سوار دیکھا اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں کتاب کے مکتب کی طرح کچھ تھا۔ میں نے دیہاتیوں اور لوگوں کو سنا وہ کہہ رہے تھے: قدموں کی چاپ، قدموں کی چاپ۔ میرے والد نے قریب ہو کر آپ ﷺ کے نشاناتِ قدم پر چلنا شروع کیا تو رسول اللہ ﷺ ٹھہر گئے۔ میمونہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاؤں کی سبابہ انگلی، جو پاؤں کی تمام انگلیوں سے زیادہ لمبی تھی، اس کو نہ بھولی۔ انہوں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: میں جیشِ عشران میں تھا۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس لشکر کو پہچانتے تھے تو طارق بن مرقع نے کہا: کون مجھے اچھے بدلے کے عوض نیزہ دے گا۔ میں نے کہا: اس کا بدلہ کیا ہوگا؟ اس نے کہا: جو میری پہلی بیٹی ہوگی اس کا نکاح دے دوں گا۔ کردم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کو اپنا نیزہ دے دیا، اس کے ہاں بیٹی پیدا ہو کر بالغ ہوگئی۔ میں نے آکر کہہ دیا کہ میری گھر والی کو میرے لیے تیار کرو تو طارق کہنے لگے: اس کے علاوہ حق مہر دو تو تیار کر دیتا ہوں وگرنہ اللہ کی قسم! ایسا نہ کروں گا۔ میں نے بھی قسم اٹھا کر کہا: ایسا نہ کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ عورتوں میں سے کس کے مماثل ہے؟“ میں نے عرض کیا: اس نے بڑھاپے کی ابتدا کو دیکھ لیا ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو، آپ کے لیے اس میں بھلائی نہیں ہے“۔ کہتے ہیں: اس نے مجھے ڈرایا اور میری طرف دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ آپ گناہ گار ہوں گے اور نہ وہ۔“