حدیث نمبر: 13826
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا ⦗٢٣٦⦘ يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " عَلَّمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةَ الْحَاجَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ أَوْ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللهُ، فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلِ اللهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ تَقْرَأُ الثَّلَاثَ آيَاتٍ {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا} [النساء: ١]، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ} [آل عمران: ١٠٢] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ثُمَّ تَقْرَأُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ} [الأحزاب: ٧١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ثُمَّ تَتَكَلَّمُ بِحَاجَتِكَ "، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ هَذِهِ فِي خُطْبَةِ النِّكَاحِ أَوْ فِي غَيْرِهَا؟ قَالَ: فِي كُلِّ حَاجَةٍ.
حافظ ثناء اللہ

عبیدہ بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ حاجت سکھایا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ ہم اسی سے مدد و بخشش طلب کرتے ہیں اور اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جس کو اللہ رب العزت ہدایت دے اس کو گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اور جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔“ پھر آپ ﷺ یہ تین آیات تلاوت کرتے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا﴾ [سورة النساء: 1] ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈر جاؤ، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ہے اور اس سے اس کی بیوی بھی پیدا کی ہے۔“ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ﴾ [سورة آل عمران: 102] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈر جاؤ جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔“ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 70-71] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈر جاؤ اور درست بات کہو، وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا۔۔۔“ ”اس کے بعد اپنی حاجت کا تذکرہ کرے۔“ شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق رحمہ اللہ سے پوچھا: یہ نکاح کے خطبہ کے بارے میں ہے یا اس کے علاوہ بھی؟ انہوں نے کہا: ہر حاجت میں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13826
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»