السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يكون الكافر وليا لمسلمة باب: اس بیان میں کہ کوئی کافر کسی مسلمان عورت کا ولی نہیں بن سکتا۔
حدیث نمبر: 13799
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، وَحَسَّانُ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: " أَنْكَحَهُ إِيَّاهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ "، وَكَذَلِكَ قَالَ الزُّهْرِيُّ، وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ، وَعُثْمَانُ هُوَ ابْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ ابْنُ ابْنِ عَمِّ أَبِيهَا، وَأَيُّهُمَا زَوَّجَهَا، فَالْوِلَايَةُ قَائِمَةٌ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ اخْتِلَافًا ثَالِثًا.حافظ ثناء اللہ
ابوالاسود، حضرت عروہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی زمین میں کروایا تھا۔
(ب) زہری رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح کہا ہے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے اور عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ، دونوں میں سے جس نے بھی نکاح کروایا ولایت قائم ہے؛ اختلاف تیسرے میں پایا جاتا ہے۔