السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في عضل الولي والمرأة تدعو إلى كفاءة باب: ولی کے نکاح سے روکنے (عضل) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، درآں حالیکہ عورت ہمسر (کفو) کی طرف بلا رہی ہو۔
قَالَ اللهُ تَعَالَى وَهُوَ أَصْدَقُ الْقَائِلِينَ: {فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ} [البقرة: 232].اللہ تعالیٰ نے، اور وہ سب کہنے والوں سے زیادہ سچا ہے، فرمایا: ﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ ”تو انہیں اپنے (سابقہ) شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔“ [سورة البقرة: 232]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ} [البقرة: ٢٣٢] قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ قَالَ: " كُنْتُ زَوَّجْتُ أُخْتًا لِي مِنْ رَجُلٍ، فَطَلَّقَهَا حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا جَاءَ، فَخَطَبَهَا، فَقُلْتُ لَهُ: زَوَّجْتُكَ وَأَفْرَشْتُكَ وَأَكْرَمْتُكَ، فَطَلَّقْتَهَا، ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُهَا، لَا وَاللهِ لَا تَعُودُ إِلَيْهَا أَبَدًا قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا لَا بَأْسَ بِهِ وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ، فَقُلْتُ: الْآنَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللهِ فَزَوَّجْتُهَا إِيَّاهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَفْصٍ.حضرت حسن رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ [سورة البقرة: 232] ”تم ان عورتوں کو مت روکو جو اپنے خاوندوں سے نکاح کرنا چاہیں۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی کہ میں نے اپنی بہن کا نکاح ایک مرد سے کر دیا، اس نے طلاق دے دی، جب اس کی عدت ختم ہوئی تو اس نے دوبارہ نکاح کا پیغام دیا۔ میں نے اس سے کہا: میں نے تیرا نکاح کیا اور تیری عزت کی لیکن تو نے طلاق دے دی۔ پھر نکاح کا پیغام لے کر آگئے ہو۔ اللہ کی قسم! اب تو اس کی طرف کبھی نہ لوٹے گا۔ راوی کہتے ہیں: آدمی میں کوئی عیب بھی نہ تھا اور عورت بھی واپسی کا ارادہ رکھتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اب میں نے اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا ہے۔