السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يرد النكاح بنقص المهر، إذا رضيت المرأة به، وكانت مالكة لأمرها لأن المهر لها دون الأولياء باب: اس بیان میں کہ مہر کم ہونے کی وجہ سے نکاح کو رد نہیں کیا جائے گا، جب عورت اس پر راضی ہو اور وہ اپنے معاملات کا خود اختیار رکھتی ہو، کیونکہ مہر اس کا حق ہے نہ کہ اولیاء کا۔
حدیث نمبر: 13789
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الْقَطِيعِيُّ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً تَزَوَّجَتْ عَلَى نَعْلَيْنِ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا: " أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ؟ " فَقَالَتْ: نَعَمْ فَأَجَازَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَفِيهِ أَخْبَارٌ أُخَرُ مَوْضِعُهَا كِتَابُ الصَّدَاقِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے دو جوتوں کے عوض نکاح کر لیا، تو اسے نبی ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو صرف دو جوتوں کے عوض راضی ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی۔