السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في عضل الولي والمرأة تدعو إلى كفاءة باب: ولی کے نکاح سے روکنے (عضل) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، درآں حالیکہ عورت ہمسر (کفو) کی طرف بلا رہی ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ بِهَمَذَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السَّمُرِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى، يَقُولُ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهَا، ⦗٢٢٤⦘ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ أَصَابَهَا، فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَهَا، وَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ " وَرُوِّينَا عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللهِ، وَشُرَيْحٍ، قَالُوا: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ إِلَّا امْرَأَةً يَعْضِلُهَا الْوَلِيُّ فَتَأْتِي السُّلْطَانَ أَوِ الْقَاضِيَ " وَعَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: كَتَبَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنْ كَانَ كُفُؤًا، فَقُولُوا لِأَبِيهَا يُزَوِّجُهَا، فَإِنْ أَبَى، فَزَوِّجُوهَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس عورت نے اپنے اولیاء کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر خاوند نے ہمبستری کر لی تو عورت کے لیے حق مہر ہے، اگر ولی آپس میں جھگڑا کریں تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہیں۔“
(ب) مجاہد، شعبی سے اور وہ سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما اور شریح سے نقل فرماتے ہیں کہ نکاح ولی کے بغیر جائز نہیں، مگر وہ عورت جس کو اس کا ولی روکے تو وہ بادشاہ یا قاضی کے پاس آ جائے۔
(ج) زیاد بن علاقہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے لکھا: اگر کفو موجود ہو تو عورت کے باپ سے کہو کہ ان کی شادی کر دیں، اگر وہ انکار کرے تو تم اس کی شادی کر دو۔