السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يرد نكاح غير الكفؤ إذا رضيت به الزوجة، ومن له الأمر معها وكان مسلما باب: اس بیان میں کہ غیر کفو (غیر ہمسر) کا نکاح رد نہیں کیا جائے گا جب بیوی اور وہ شخص جسے اس کے ساتھ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اس پر راضی ہوں اور وہ (شوہر) مسلمان ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزَّاهِدُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ أَخًا لِبِلَالٍ كَانَ يَنْتَمِي فِي الْعَرَبِ، وَيَزْعُمُ أَنَّهُ مِنْهُمْ، ⦗٢٢٣⦘ فَخَطَبَ امْرَأَةً مِنَ الْعَرَبِ، فَقَالُوا: إِنْ حَضَرَ بِلَالٌ زَوَّجْنَاكَ قَالَ: فَحَضَرَ بِلَالٌ، فَقَالَ: أَنَا بِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ، وَهَذَا أَخِي وَهُوَ " امْرُؤُ سُوءٍ سِيِّئُ الْخُلُقِ وَالدِّينِ، فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تُزَوِّجُوهُ، فَزَوِّجُوهُ وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَدَعُوهُ فَدَعُوهُ، فَقَالُوا: مَنْ تَكُنْ أَخَاهُ نُزَوِّجْهُ، فَزَوَّجُوهُ ".عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا ایک بھائی تھا جو اپنی نسبت عرب کی طرف کرتا تھا اور اپنے آپ کو عرب ہی خیال کرتا تھا۔ اس نے عرب کی ایک عورت کو پیغامِ نکاح دیا۔ انہوں نے کہا: اگر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آ جائیں تو ہم آپ کی شادی کر دیں گے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آ گئے تو انہوں نے کہا: میں بلال بن رباح ہوں اور یہ میرا بھائی جو دین و اخلاق کے اعتبار سے برا ہے۔ اگر تم چاہو تو شادی کر دو اور شادی کرا دو۔ اگر تم چھوڑنا چاہو تو چھوڑ دو۔ انہوں نے کہا: جس کے آپ بھائی ہوں ہم اس کی شادی کر دیتے ہیں، تو انہوں نے شادی کر دی۔