السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يرد نكاح غير الكفؤ إذا رضيت به الزوجة، ومن له الأمر معها وكان مسلما باب: اس بیان میں کہ غیر کفو (غیر ہمسر) کا نکاح رد نہیں کیا جائے گا جب بیوی اور وہ شخص جسے اس کے ساتھ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اس پر راضی ہوں اور وہ (شوہر) مسلمان ہو۔
حدیث نمبر: 13787
وَفِيمَا ذَكَرَ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ هَارُونَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، مُرْسَلًا أَنَّ بَنِي بُكَيْرٍ، أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: " زَوِّجْ أُخْتَنَا مِنْ فُلَانٍ، فَقَالَ: " أَيْنَ أَنْتُمْ عَنْ بِلَالٍ "، فَعَادُوا فَأَعَادَ ثَلَاثًا، فَزَوَّجُوهُ قَالَ: وَكَانَ بَنُو بُكَيْرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ بَنِي لَيْثٍ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ مرسل روایت نقل فرماتے ہیں کہ بنو بکیر کے بیٹے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہماری بہن کی شادی فلاں سے کر دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلال (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟“ تو انہوں نے شادی کر دی۔ راوی کہتے ہیں کہ بنو بکیر مہاجرین کے قبیلہ بنو لیث سے تھے۔