السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يرد نكاح غير الكفؤ إذا رضيت به الزوجة، ومن له الأمر معها وكان مسلما باب: اس بیان میں کہ غیر کفو (غیر ہمسر) کا نکاح رد نہیں کیا جائے گا جب بیوی اور وہ شخص جسے اس کے ساتھ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اس پر راضی ہوں اور وہ (شوہر) مسلمان ہو۔
حدیث نمبر: 13784
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ التَّرَّسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " زَوَّجْتُ الْمِقْدَادَ وَزَيْدًا لِيَكُونَ أَشْرَفُكُمْ عِنْدَ اللهِ أَحْسَنَكُمْ خُلُقًا "، هَذَا مُنْقَطِعٌ وَفِيمَا قَبْلَهُ كِفَايَةٌ وَالْمِقْدَادُ هُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ مَالِكٍ، حَلِيفُ الْأَسْوَدِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، فَنُسِبَ إِلَيْهِ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ صُلْبِهِمْ، وَقَدْ زُوِّجَتْ مِنْهُ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ.حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے مقداد اور زید کی شادی کی، تاکہ وہ اللہ کے ہاں بلند مرتبہ ہو جو تم سے اچھے اخلاق کا ہو۔“
یہ روایت منقطع ہے اور اس سے پہلے والی روایت کافی ہے۔
(ب) سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ عمرو بن ثعلبہ بن مالک کے بیٹے ہیں، وہ بنو زہرہ کے ایک آدمی اسود کے حلیف تھے، اس لیے ان کی طرف منسوب ہو گئے، حالانکہ وہ ان کی نسل سے نہ تھے، اور سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب بن ہاشم رضی اللہ عنہا کا نکاح ان سے کیا گیا۔