السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يرد نكاح غير الكفؤ إذا رضيت به الزوجة، ومن له الأمر معها وكان مسلما باب: اس بیان میں کہ غیر کفو (غیر ہمسر) کا نکاح رد نہیں کیا جائے گا جب بیوی اور وہ شخص جسے اس کے ساتھ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اس پر راضی ہوں اور وہ (شوہر) مسلمان ہو۔
حدیث نمبر: 13785
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، أنبأ أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ " أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَبَنَّى سَالِمًا، وَزَوَّجَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، فَهَذِهِ قُرَشِيَّةٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ زُوِّجَتْ مِنْ مَوْلًى.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس، جو نبی ﷺ کے ساتھ بدر میں حاضر ہوئے تھے، انہوں نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنی بھتیجی کی شادی ان سے کردی، یعنی ہند بنت ولید بن عتبہ، وہ انصار کی ایک عورت کے غلام تھے، جیسے نبی ﷺ نے زید کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ ابوالیمان سے نقل فرماتے ہیں: یہ قریشی تھیں، بنو عبدشمس بن عبدمناف سے تھیں۔ ان کی شادی غلام سے کی گئی۔