السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يرد نكاح غير الكفؤ إذا رضيت به الزوجة، ومن له الأمر معها وكان مسلما باب: اس بیان میں کہ غیر کفو (غیر ہمسر) کا نکاح رد نہیں کیا جائے گا جب بیوی اور وہ شخص جسے اس کے ساتھ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اس پر راضی ہوں اور وہ (شوہر) مسلمان ہو۔
حدیث نمبر: 13783
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهَا: " كَأَنَّكِ تُرِيدِينَ الْحَجَّ " قَالَتْ: أَجِدُنِي شَاكِيَةً قَالَ لَهَا: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي "، وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ " ⦗٢٢٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”تو حج کا ارادہ رکھتی ہے؟“ وہ کہنے لگی: میں بیماری محسوس کرتی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حج کر اور شرط رکھ کہ میرے حلال ہونے کی وہی جگہ ہے جہاں تو نے مجھے روک لیا۔“ اور یہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی۔