السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الرجل يعتق أمته ثم يتزوج بها باب: اس شخص کا بیان جو اپنی لونڈی کو آزاد کرے اور پھر اس سے نکاح کر لے۔
حدیث نمبر: 13744
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ أَنْ يَجْعَلَ عِتْقَ الْمَرْأَةِ مَهْرَهَا حَتَّى يَفْرِضَ لَهَا صَدَاقًا "، قَالَ الشَّيْخُ: وَعَلَى مِثْلِ هَذَا يَدُلُّ حَدِيثُ أَبِي مُوسَى بِرِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، ⦗٢٠٩⦘ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثٍ ضَعِيفٍ أَنَّهُ أَمْهَرَهَا.حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عورت کی آزادی کو اس کا حقِ مہر مقرر کر دینے کو ناپسند فرماتے تھے، یہاں تک کہ اس کا مہر مقرر کر دیا جائے۔
شیخ فرماتے ہیں: ابو موسیٰ جو ابی بکر بن عیاش سے نقل فرماتے ہیں، وہ حدیث اسی پر دلالت کرتی ہے۔