السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الرجل يعتق أمته ثم يتزوج بها باب: اس شخص کا بیان جو اپنی لونڈی کو آزاد کرے اور پھر اس سے نکاح کر لے۔
حدیث نمبر: 13743
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاضِي أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيَّ يَقُولُ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ أَكْثَمَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَذَا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَيُذْكَرُ هَذَا أَيْضًا عَنِ الْمُزَنِيِّ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ، فَحَمَلَهُ عَلَى التَّخْصِيصِ، وَمَوْضِعُ التَّخْصِيصِ أَنَّهُ أَعْتَقَهَا مُطْلَقًا، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا عَلَى غَيْرِ مَهْرٍ، وَنِكَاحُ غَيْرِهِ لَا يَخْلُو مِنْ مَهْرٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
قاضی احمد بن محمد برتی فرماتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن اکثم سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ نبی ﷺ کے ساتھ خاص تھا۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی بات مزنی رحمہ اللہ سے بھی ذکر کی جاتی ہے کہ انہوں نے یہ حدیث امام شافعی رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی تو انہوں نے اسے خصوصیت پر محمول کیا۔ اور خصوصیت کی جگہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں مطلقاً آزاد کیا، پھر بغیر مہر کے ان سے نکاح کیا، جبکہ آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور کا نکاح مہر سے خالی نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم۔