السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا نكاح إلا بولي مرشد باب: اس فرمان کا بیان کہ ”درست رہنمائی کرنے والے ولی کے بغیر کوئی نکاح درست نہیں“۔
حدیث نمبر: 13716
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ، فَإِنْ أَنْكَحَهَا وَلِيٌّ مَسْخُوطٌ عَلَيْهِ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ "، ⦗٢٠٢⦘ كَذَا رَوَاهُ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَالصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ اگر اس کا نکاح کسی ناپسندیدہ (بدکردار) ولی نے کر دیا تو وہ نکاح باطل ہے۔“
عدی بن فضل نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہیں، صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ واللہ اعلم۔