السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا نكاح، إلا بشاهدين عدلين باب: اس فرمان کا بیان کہ ”دو عادل گواہوں کے بغیر کوئی نکاح درست نہیں“۔
حدیث نمبر: 13717
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو يُوسُفَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَجَّاجِ الرَّقِّيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذِنْ وَلِيِّهَا، وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا، فَلَهَا الْمَهْرُ، وَإِنِ اشْتَجَرُوا، فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ " قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ وَهُوَ النَّيْسَابُورِيُّ أَبُو يُوسُفَ الرَّقِّيُّ، هَذَا مِنْ حُفَّاظِ أَهْلِ الْجَزِيرَةِ وَمُتْقِنِيهِمْ.حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو عورت بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کی گئی اور دو عادل گواہوں کے بغیر تو اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر اس سے دخول کر لیا ہے تو اس کے لیے حقِ مہر ہو گا اور اگر ولی آپس میں جھگڑا کر لیں تو سلطان ولی ہو گا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔“