السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا نكاح إلا بولي مرشد باب: اس فرمان کا بیان کہ ”درست رہنمائی کرنے والے ولی کے بغیر کوئی نکاح درست نہیں“۔
حدیث نمبر: 13715
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ أَوْ سُلْطَانٍ، فَإِنْ أَنْكَحَهَا سَفِيهٌ أَوْ مَسْخُوطٌ عَلَيْهِ، فَلَا نِكَاحَ لَهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ولی یا بادشاہ کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ اگر عورت کا نکاح کسی بیوقوف نے کر دیا اور اس نے اس پر ناگواری کا اظہار کیا تو اس کا نکاح نہیں ہے۔