السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في إنكاح الثيب باب: شوہر دیدہ (بیوہ یا مطلقہ) عورت کے نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13687
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْكَحَ ابْنَةً لَهُ ثَيِّبًا كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَرَدَّ نِكَاحَهَا " وَرَوَاهُ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَسَمَّى الْمَرْأَةَ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِدَامٍ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ مَوْصُولًا وَالْمُرْسَلُ لَهُ أَصَحُّ وَفِيمَا مَضَى مِنَ الْمَوْصُولِ كِفَايَةٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی نے اپنی شادی شدہ بیٹی کا، جو پہلے ایک آدمی کے نکاح میں رہ چکی تھی، نکاح کر دیا تو اس نے اسے ناپسند کیا، وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اس کا نکاح رد کر دیا۔
عمر بن ابی سلمہ نے اسے اپنے والد سے روایت کیا اور اس عورت کا نام خنساء بنت خذام بتایا اور اسے مرسل ذکر کیا، اور ان سے موصول بھی بیان کیا گیا ہے، لیکن ان سے مرسل زیادہ صحیح ہے، اور گزشتہ موصول روایات کافی ہیں۔