حدیث نمبر: 13686
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: آمَتْ خَنْسَاءُ بِنْتُ خِدَامٍ، فَزَوَّجَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: زَوَّجَنِي أَبِي وَأَنَا كَارِهَةٌ، وَقَدْ مَلَكْتُ أَمْرِي وَلَمْ يُشْعِرْنِي، فَقَالَ: " لَا نِكَاحَ لَهُ انْكِحِي مَنْ ⦗١٩٤⦘ شِئْتِ "، فَنَكَحَتْ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ "، هَذَا مُرْسَلٌ وَهُوَ شَاهِدٌ لِمَا تَقَدَّمَ.
حافظ ثناء اللہ

خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا کے باپ نے اس کی شادی اس سے کردی جس کو وہ ناپسند کرتی تھی، وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہا: میرے باپ نے میری ایسی جگہ پر شادی کی ہے جس کو میں ناپسند کرتی ہوں، حالانکہ میں اپنے نفس کی خود مالک ہوں اور مجھے پتہ بھی نہیں چلا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جہاں چاہتی ہے وہاں نکاح کرلے“ تو اس نے ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ سے شادی کرلی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13686
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»