حدیث نمبر: 13688
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ الْبُوزَنَجِرْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ " امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا وَلَهَا مِنْهُ وَلَدٌ، فَخَطَبَهَا عَمُّ وَلَدِهَا إِلَى وَالِدِهَا، فَقَالَ لَهُ: زَوِّجْنِيهَا، فَأَبَى، فَزَوَّجَهَا غَيْرَهُ بِغَيْرِ رَضًا مِنْهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَزَوَّجْتَهَا غَيْرَ عَمِّ وَلَدِهَا؟ " قَالَ: نَعَمْ زَوَّجْتُهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ لَهَا مِنْ عَمِّ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَزَوَّجَهَا عَمَّ وَلَدِهَا كَذَا قَالَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا، اس کا ایک لڑکا تھا۔ لڑکے کے چچا نے اس عورت سے منگنی کا پیغام اس کے والد کی طرف بھیجا کہ تو اس کی شادی مجھ سے کر دے تو اس نے انکار کر دیا، اس نے اس عورت کی شادی اس کی رضامندی کے بغیر کر دی تو وہ عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی ﷺ نے اس کی طرف آدمی بھیجا پھر کہا: ”کیا تو نے اس کی شادی اس کے بیٹے کے چچا کے علاوہ کسی اور سے کر دی؟“ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے اس کی شادی اس کے بیٹے کے چچا سے بہتر لڑکے سے کر دی تو رسول اللہ ﷺ نے دونوں میں تفریق کر دی اور اس کے بیٹے کے چچا سے اس کی شادی کر دی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13688
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»