السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في إنكاح الآباء الأبكار باب: ان روایات کے بیان میں کہ باپ اپنی کنواری بیٹیوں کا نکاح کر سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 13667
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْبَغْدَادِيُّ الرَّفَّاءُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءَ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَمَّنْ أُدْرِكَ مِنْ فُقَهَائِهِمُ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ، مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَخَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ فِي مَشْيَخَةٍ جُلَّةٍ سِوَاهُمْ مِنْ نُظَرَائِهِمْ قَالَ: وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِي الشَّيْءِ فَأَخَذْتُ بِقَوْلِ أَكْثَرِهِمْ قَالَ: كَانُوا يَقُولُونَ " الرَّجُلُ أَحَقُّ بِإِنْكَاحِ ابْنَتِهِ الْبِكْرِ بِغَيْرِ أَمْرِهَا، وَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا، فَلَا جَوَازَ لِأَبِيهَا فِي نِكَاحِهَا، إِلَّا بِإِذْنِهَا ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ، قاسم بن محمد رحمہ اللہ، ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ، خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ اور سلیمان بن یسار رحمہ اللہ اپنے شیخ سے روایت کرتے ہیں اور وہ ان میں اختلاف بھی کرتے ہیں، ان میں سے اکثر کا قول ہے کہ آدمی اپنی کنواری بیٹی کی شادی بغیر اجازت کے خود کر لے گا اور اگر وہ شادی شدہ ہو تو اس کے باپ کے لیے اس کی اجازت کے بغیر (نکاح کرنا) جائز نہیں ہے۔