السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في إنكاح الآباء الأبكار باب: ان روایات کے بیان میں کہ باپ اپنی کنواری بیٹیوں کا نکاح کر سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 13666
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، كَانَا يُنْكِحَانِ بَنَاتِهِمَا الْأَبْكَارَ، وَلَا يَسْتَأْمِرَانِهِنَّ.حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ اور سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنی کنواری بیٹیوں کا نکاح کرتے تھے اور ان سے مشورہ بھی نہیں کرتے تھے، اور یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ قاسم بن محمد رحمہ اللہ، سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اور سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کنواری لڑکی کی شادی اس کا باپ بغیر اجازت کے کرے گا اور یہ لڑکی کے لیے لازم ہے۔