السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في إنكاح الآباء الأبكار باب: ان روایات کے بیان میں کہ باپ اپنی کنواری بیٹیوں کا نکاح کر سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 13668
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " أَيَجُوزُ إِنْكَاحُ الرَّجُلِ ابْنَتَهُ بِكْرًا وَهِيَ كَارِهَةٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قُلْتُ: فَثَيِّبٌ كَارِهَةٌ؟ قَالَ: " قَدْ مَلَكَتِ الثَّيِّبُ أَمْرَهَا "، ⦗١٨٩⦘ وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ قَالَ: الْبِكْرُ يُجْبِرُهَا أَبُوهَا، وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: لَا يُجْبِرُ إِلَّا الْوَالِدُ.حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطا رحمہ اللہ سے کہا: کیا جائز ہے کہ آدمی اپنی کنواری بیٹی کی شادی کرتا ہے حالانکہ وہ ناپسند کرتی ہے؟ فرمایا: ہاں۔ پھر میں نے پوچھا: کیا شادی شدہ کے لیے بھی جائز ہے جس کو وہ ناپسند کرتی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، کیونکہ شادی شدہ اپنے معاملے کی خود مالک ہے۔