السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما ورد في المسح على النعلين باب: جوتوں پر مسح کرنے کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 1362
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا قَالَ: مَا هُنَّ؟ فَذَكَّرَهُنَّ وَقَالَ فِيهِنَّ: رَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ قَالَ: أَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعْرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي عَجْلَانَ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ فَزَادَ فِيهِ: وَيَمْسَحُ عَلَيْهَا.حافظ ثناء اللہ
عبید بن جریح نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابا عبدالرحمن! میں نے دیکھا کہ آپ چار کام کرتے ہیں جو میں نے کسی صحابی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا: وہ کیا ہیں؟ اس نے وہ (چار) چیزیں بتلائیں، یعنی میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ سبتی (علاقے کے) جوتے پہنتے ہیں۔ انہوں نے کہا: سبتی جوتے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے جوتے پہنے ہوئے دیکھا ہے جن پر بال نہیں تھے اور آپ ﷺ ان میں وضو کرتے تھے، میں بھی پسند کرتا ہوں کہ میں بھی پہنوں۔