حدیث نمبر: 1358
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْقَزَّازُ، ثنا أَبُو عُمَيْرٍ، ثنا رَوَّادٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ ". هَكَذَا رَوَاهُ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَهُوَ يَنْفَرِدُ عَنِ الثَّوْرِيِّ بِمَنَاكِيرَ هَذَا أَحَدُهَا وَالثِّقَاتُ رَوَوْهُ عَنِ الثَّوْرِيِّ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَرُوِيَ عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ عَنِ الثَّوْرِيِّ هَكَذَا وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک ایک مرتبہ وضو کیا اور جوتیوں پر مسح کیا۔
حدیث نمبر: 1359
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَسَحَ عَلَى النَّعْلَيْنِ" ⦗٤٢٩⦘ وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَحَكَيَا فِي الْحَدِيثِ رَشَّ عَلَى الرِّجْلِ وَفِيهَا النَّعْلُ وَذَلِكَ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ غَسَلَهَا فِي النَّعْلِ، فَقَدْ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ وَوَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَحَكَوْا فِي الْحَدِيثِ غَسْلَهُ رِجْلَيْهِ وَالْحَدِيثُ حَدِيثٌ وَاحِدٌ وَالْعَدَدُ الْكَثِيرُ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنْ عَدَدِ الْيَسِيرِ مَعَ فَضْلِ حِفْظِ مِنْ حَفِظَ فِيهِ الْغَسْلَ بَعْدَ الرَّشِّ عَلَى مَنْ لَمْ يَحْفَظْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ نے ہم کو اسی سند سے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے جوتیوں پر مسح کیا۔ (ب) عبدالعزیز دراوردی اور ہشام بن سعد نے زید بن اسلم رحمہ اللہ سے جوتے سمیت پاؤں پر چھینٹے مارنا بیان کیا ہے، لیکن یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے جوتوں سمیت پاؤں دھونا ہو۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ سے دوسرے راوی بیان کرتے ہیں کہ دونوں پاؤں دھوئے جائیں۔ حدیث ایک ہی ہے۔
حدیث نمبر: 1360
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى قَالَا: ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَبَّادٌ: قَالَ: أَخْبَرَنِي أَوْسُ بْنُ أَبِي أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدْمَيْهِ " وَقَالَ مُسَدَّدٌ: إِنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اوس بن ابی اوس ثقفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ نے جوتیوں اور پاؤں پر مسح کیا۔
مسدد کہتے ہیں: انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے۔
مسدد کہتے ہیں: انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 1361
وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ. وَهُو مُنْقَطِعٌ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فَذَكَرَهُ. ⦗٤٣٠⦘ وَهَذَا الْإِسْنَادُ غَيْرُ قَوِيٍّ وَهُوَ يَحْتَمِلُ مَا احْتَمَلَ الْحَدِيثَ الْأَوْلَ وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِهِ غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ فِي النَّعْلَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور اپنی جوتیوں پر مسح کیا۔ یہ روایت منقطع ہے۔
(ب) یہ سند قوی نہیں۔
(ب) یہ سند قوی نہیں۔
حدیث نمبر: 1362
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا قَالَ: مَا هُنَّ؟ فَذَكَّرَهُنَّ وَقَالَ فِيهِنَّ: رَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ قَالَ: أَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعْرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي عَجْلَانَ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ فَزَادَ فِيهِ: وَيَمْسَحُ عَلَيْهَا.
حافظ ثناء اللہ
عبید بن جریح نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابا عبدالرحمن! میں نے دیکھا کہ آپ چار کام کرتے ہیں جو میں نے کسی صحابی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا: وہ کیا ہیں؟ اس نے وہ (چار) چیزیں بتلائیں، یعنی میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ سبتی (علاقے کے) جوتے پہنتے ہیں۔ انہوں نے کہا: سبتی جوتے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے جوتے پہنے ہوئے دیکھا ہے جن پر بال نہیں تھے اور آپ ﷺ ان میں وضو کرتے تھے، میں بھی پسند کرتا ہوں کہ میں بھی پہنوں۔
حدیث نمبر: 1363
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنِ الْعَلَاءِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: رَأَيْنَاكَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ نَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ غَيْرُكَ قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: رَأَيْنَاكَ تَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ قَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا وَيَمْسَحُ عَلَيْهَا " وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ إِنْ كَانَتْ مَحْفُوظَةً فَلَا يُنَافِي غَسْلَهُمَا فَقَدْ يَغْسِلُهُمَا فِي النَّعْلِ وَيَمْسَحُ عَلَيْهِمَا كَمَا مَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى عِمَامَتِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عبید بن جریح فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: ہم نے آپ کو کچھ ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے جو آپ کے علاوہ ہم نے کسی کو ایسے کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا: وہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ سبتی جوتیاں پہنتے ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو پہنتے ہوئے دیکھا ہے اور آپ ﷺ ان میں وضو کرتے تھے اور ان پر مسح کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1364
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: " بَالَ عَلِيٌّ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى النَّعْلَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہونے کی حالت میں پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
حدیث نمبر: 1365
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ قَالَ: " بَالَ عَلِيٌّ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى النَّعْلَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوظبیان کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور جوتیوں پر مسح کیا، پھر (گھر سے) نکلے اور ظہر کی نماز ادا کی۔
حدیث نمبر: 1366
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ بِالرَّحْبَةِ بَالَ قَائِمًا حَتَّى أَدْعَى فَأُتِيَ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَاسْتَنْشَقَ وَتَمَضْمَضَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَوَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْحَدِرُ عَلَى لِحْيَتِهِ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَأَمَّ النَّاسَ " قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثْتُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: إِذَا رَأَيْتَ أَبَا ظَبْيَانَ فَأَخْبَرْنِي فَرَأَيْتُ أَبَا ظَبْيَانَ قَائِمًا فِي الْكُنَاسَةِ فَقُلْتُ: هَذَا أَبُو ظَبْيَانَ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حِينَ وَصَفَ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يُخَالِفُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا مَسْحُهُ عَلَى النَّعْلَيْنِ فَهُوَ مَحْمُولٌ عَلَى غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ فِي النَّعْلَيْنِ وَالْمَسْحِ عَلَى النَّعْلَيْنِ لِأَنَّ الْمَسْحَ رُخْصَةٌ لِمَنْ تَغَطَّتْ رِجْلَاهُ بِالْخُفَّيْنِ فَلَا يُعَدَّانِهَا مَوْضِعَهَا قَالَ: وَالْأَصْلُ وُجُوبُ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ إِلَّا مَا خَصَّتْهُ سُنَّةٌ ثَابِتَةٌ أَوْ إِجْمَاعٌ لَا يُخْتَلَفُ فِيهِ وَلَيْسَ عَلَى الْمَسْحِ عَلَى النَّعْلَيْنِ وَلَا عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَاحِدٌ مِنْهُمَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوظبیان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو رحبہ جگہ میں دیکھا، انہوں نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، یہاں تک کہ وہ جھاگ بن گیا، پھر پانی کا ایک برتن لایا گیا تو آپ نے اپنے ہاتھوں کو دھویا اور ناک میں پانی چڑھایا اور کلی کی، پھر اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر پانی کی ایک ہتھیلی لی اس کو اپنے سر پر رکھا یہاں تک کہ میں نے پانی کو دیکھا وہ آپ کی داڑھی پر گر رہا تھا، پھر جوتیوں پر مسح کیا، پھر نماز کی اقامت کہی گئی تو اپنی جوتیاں اتاریں، آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ (ب) اعمش کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم کو بتایا تو انہوں نے کہا: جب تو اعمش کو دیکھے تو مجھے بتلا، میں نے اسے کناسہ میں دیکھا تو انہیں بتایا، انہوں نے اس سے حدیث کے متعلق سوال کیا۔ (ج) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے جب رسول اللہ ﷺ کا وضو بیان کیا تو پاؤں دھوئے اور وہ نبی ﷺ کے طریقے کی مخالفت نہیں کرتے تھے۔ ان کا جوتوں پر مسح کرنا اس پر محمول ہے کہ جب پاؤں دھو کر جوتے پہنے ہوں۔ جوتوں پر مسح کی رخصت اس شخص کے لیے جس نے اپنے پاؤں موزوں سے ڈھانپے ہوں۔ اصل پاؤں دھونا ہی واجب ہے، البتہ ان صورتوں میں نہیں جن میں کوئی سنتِ مشہورہ یا اجماع ہو، اور جوتوں اور جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے۔