السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في إبداء المسلمة زينتها لنسائها دون الكافرات باب: مسلمان عورت کا کافر عورتوں کے بجائے صرف مسلمان عورتوں کے سامنے اپنی زینت ظاہر کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13543
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ نِسَاءً مِنْ نِسَاءِ الْمُسْلِمِينَ يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ مَعَ نِسَاءِ أَهْلِ الشِّرْكِ، فَإِنَّهُ مِنْ قِبَلِكَ عَنْ ذَلِكَ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى عَوْرَتِهَا إِلَّا أَهْلُ مِلَّتِهَا ".حافظ ثناء اللہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا: حمد و ثنا کے بعد! مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ مسلمان عورتیں مشرک لوگوں کی بیویوں کے ساتھ حمامات میں نہاتی ہیں۔ ان کو اس سے منع کرو؛ کیونکہ کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے جائز نہیں کہ وہ اس کی شرم گاہ دیکھے علاوہ اس عورت کے جو اس دین (ملت) سے ہو۔